
Published: October 21, 2026
چوہدری آصف سی ای او پاسبان گروپ نے ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کی اے جی ایم میں آزاد مبصرین کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا
لاہور | ریاض حسین ری نیوز پاکستان
ڈی ایچ اے لاہور میں پاسبان گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر و سابق صدارتی امیدوار ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن چوہدری آصف نے کمپنیز رجسٹرار، کمپنی رجسٹریشن آفس لاہور کے نام درخواست میں 24 اکتوبر 2026 کو ہونے والے ایسوسی ایشن کے سالانہ جنرل اجلاس میں آزاد مبصرین کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا۔
دی گئی درخواست میں رکنیت فہرست جاری کرنے اور اس کی تصدیق، متنازع آئینی ترامیم کا جائزہ لینے اور منصفانہ انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے اقدامات کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں چوہدری آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ “گزشتہ سالانہ جنرل اجلاس میں مبینہ غیر منصفانہ طریقہ کار اور ایسوسی ایشن کے آئین میں متنازع ترامیم کی منظوری کے باعث تنازع پیدا ہوا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں ارکان میں ایسوسی ایشن کی داخلی حکمرانی اور انتخابی طریقہ کار کی شفافیت، قانونی حیثیت اور منصفانہ ہونے کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔”
آزاد مبصرین کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے درخواست کی کہ “براہِ کرم 24 اکتوبر 2026 کو ہونے والے آئندہ سالانہ جنرل اجلاس میں شرکت اور اس کی نگرانی کے لیے سرکاری مبصرین مقرر کیے جائیں تاکہ کارروائی شفاف، منصفانہ اور قابلِ اطلاق قانون، رجسٹرڈ میمورنڈم و آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق انجام پائے۔”
چوہدری آصف نے رکنیت فہرست تک رسائی بھی طلب کی تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اجلاس اور انتخابی عمل میں شرکت کے حق دار ارکان کون ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ “جنرل سیکریٹری کو قابلِ اطلاق قانون اور ایسوسی ایشن کی انتظامی دستاویزات کے تابع، سالانہ جنرل اجلاس اور انتخابی عمل میں شرکت کے حق دار ارکان کی تازہ ترین اور باقاعدہ تصدیق شدہ فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔ اس سے شفافیت یقینی بنانے، بے ضابطگیوں کی روک تھام اور اہل ارکان کے جائز حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔”
متنازع آئینی ترامیم کے حوالے سے چوہدری آصف نے رجسٹرار سے یہ جائزہ لینے کی درخواست کی کہ آیا مطلوبہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “گزشتہ اے جی ایم سے متعلق تنازعات کے پیش نظر، میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ کا دفتر مبینہ طور پر متنازع حالات میں منظور کی گئی ترامیم کا جائزہ لے اور تصدیق کرے کہ آیا مقررہ قانونی اور طریقہ کار سے متعلق تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ جو ترامیم قابلِ اطلاق قانون سے متصادم یا نامناسب طریقے سے منظور شدہ پائی جائیں، ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے۔”
درخواست میں انتخابی عمل کی منصفانہ حیثیت یقینی بنانے کے لیے رجسٹرار کے قانونی اختیار کے تحت اقدامات کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
چوہدری آصف نے کہا کہ “میں مزید درخواست کرتا ہوں کہ آپ کا دفتر اپنے قانونی اختیار کے تحت مداخلت کرے اور آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے مناسب اقدامات کرے، اہل ارکان کے ساتھ مساوی سلوک یقینی بنائے اور ان کے قانونی حقِ رائے دہی کا تحفظ کرے۔”
ایسوسی ایشن کے آئینی ڈھانچے کے حوالے سے انہوں نے درخواست کی کہ “براہِ کرم ایسوسی ایشن کی رجسٹرڈ آئینی دستاویزات کا جائزہ لیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اس کی حکمرانی اور انتخابی طریقہ کار قانونی طور پر مؤثر میمورنڈم و آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کے مطابق انجام پائیں۔ کسی بھی متنازع یا غیر منظور شدہ ترمیم سے مناسب قانونی اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کے تحت نمٹا جائے۔”
درخواست میں کہا گیا ہے کہ “شفافیت، احتساب اور ارکان کے حقوق کے تحفظ کے مفاد میں، میں بصد احترام درخواست کرتا ہوں کہ آپ کا دفتر 24 اکتوبر 2026 کو ہونے والے سالانہ جنرل اجلاس سے قبل بروقت کارروائی کرے، قانونی طور پر ممکنہ حد تک مبصرین مقرر کرے اور مناسب ہدایات جاری کرے تاکہ اجلاس اور اس کی انتخابی کارروائی قانون کے مطابق انجام پائے۔”
چوہدری آصف نے مزید کہا کہ “آپ کی بروقت مداخلت ایسوسی ایشن کی حکمرانی پر ارکان کا اعتماد بحال کرنے اور شفاف و جواب دہ انتخابی عمل کے فروغ میں مدد دے گی۔”