تاریخ اشاعت: September 5, 2026 - 3:39 PM
Five PC Hotels Proposed to Be Split Between Thatta Cement and Fauji Foundation
پی سی ہوٹلز کی پانچ جائیدادیں ٹھٹہ سیمنٹ اور فوجی فاؤنڈیشن کو منتقل ہونے کا امکان
▫️پاکستان سروسز کے ملکیتی تنازع کے ممکنہ تصفیے میں پی سی کراچی اور راولپنڈی ٹھٹہ سیمنٹ جبکہ لاہور، بھوربن اور مظفرآباد فوجی فاؤنڈیشن کو دینے کی تجویز
اسلام آباد | ری نیوز پاکستانپاکستان سروسز لمیٹڈ، جو پرل کانٹینینٹل (پی سی) ہوٹل چین کی مالک اور آپریٹر ہے، کے ملکیتی تنازع کو عدالت سے باہر حل کرنے کے لیے ایک مجوزہ تصفیے کے تحت کمپنی کی پانچ ہوٹل جائیدادیں ٹھٹہ سیمنٹ اور فوجی فاؤنڈیشن ک...
Islamabad | ReNews Pakistan
Pakistan Services Limited, the owner and operator of the Pearl Continental (PC) hotel chain, could divide five of its hotel properties between Thatta Cement and Fauji Foundation under a proposed out of court settlement aimed at resolving the company’s long-running ownership dispute.
According to a report by Nukta, the proposed arrangement would transfer PC Karachi and PC Rawalpindi to Thatta Cement, while PC Lahore, PC Bhurban and PC Muzaffarabad would be transferred to Fauji Foundation. The arrangement has not yet been formally announced, and the proposed transfers have not been completed.
The parties have reportedly signed a Memorandum of Understanding (MoU) as part of the proposed settlement. The development follows more than a year of legal and ownership disputes surrounding a voting stake representing approximately 56% of Pakistan Services.
The ownership dispute intensified in July 2025 when AKD Group Holdings and Muhammad acquired holdings that together represented nearly 56% of the company’s voting shares. The Hashwani Group, which acquired Pakistan Services in 1985, challenged the transactions and later described the development as a hostile takeover.
During the dispute, Thatta Cement acquired approximately 28% of Pakistan Services in October 2025 and sought fresh elections for the company’s board. The Islamabad High Court subsequently suspended the proposed election and restricted the sale or transfer of the disputed shares.
The court also barred the new shareholders from interfering in the company’s day to day management, keeping the ownership structure, board composition and management control at the centre of the prolonged legal dispute.
PC Peshawar is not part of the proposed settlement, as the property had previously been sold separately to Serena Hotels. The proposed arrangement therefore covers five of the remaining major hotel properties owned by Pakistan Services.
If completed, the settlement could bring an end to the ownership dispute that has surrounded Pakistan Services for more than a year. However, the final terms, timing and implementation process remain unclear, with the proposed transfers yet to be completed.
Pakistan Services’ shares have also experienced significant volatility during the dispute. The stock fell from a 52 week high of Rs1,635 to Rs799, before recovering to around Rs830.
Completion of the proposed settlement could result in a significant restructuring of ownership across Pakistan Services’ hotel portfolio and may also mark a new phase for the company’s management, investment strategy and future development of its remaining hospitality assets.
Pakistan Services Limited, the owner and operator of the Pearl Continental (PC) hotel chain, could divide five of its hotel properties between Thatta Cement and Fauji Foundation under a proposed out of court settlement aimed at resolving the company’s long-running ownership dispute.
According to a report by Nukta, the proposed arrangement would transfer PC Karachi and PC Rawalpindi to Thatta Cement, while PC Lahore, PC Bhurban and PC Muzaffarabad would be transferred to Fauji Foundation. The arrangement has not yet been formally announced, and the proposed transfers have not been completed.
The parties have reportedly signed a Memorandum of Understanding (MoU) as part of the proposed settlement. The development follows more than a year of legal and ownership disputes surrounding a voting stake representing approximately 56% of Pakistan Services.
The ownership dispute intensified in July 2025 when AKD Group Holdings and Muhammad acquired holdings that together represented nearly 56% of the company’s voting shares. The Hashwani Group, which acquired Pakistan Services in 1985, challenged the transactions and later described the development as a hostile takeover.
During the dispute, Thatta Cement acquired approximately 28% of Pakistan Services in October 2025 and sought fresh elections for the company’s board. The Islamabad High Court subsequently suspended the proposed election and restricted the sale or transfer of the disputed shares.
The court also barred the new shareholders from interfering in the company’s day to day management, keeping the ownership structure, board composition and management control at the centre of the prolonged legal dispute.
PC Peshawar is not part of the proposed settlement, as the property had previously been sold separately to Serena Hotels. The proposed arrangement therefore covers five of the remaining major hotel properties owned by Pakistan Services.
If completed, the settlement could bring an end to the ownership dispute that has surrounded Pakistan Services for more than a year. However, the final terms, timing and implementation process remain unclear, with the proposed transfers yet to be completed.
Pakistan Services’ shares have also experienced significant volatility during the dispute. The stock fell from a 52 week high of Rs1,635 to Rs799, before recovering to around Rs830.
Completion of the proposed settlement could result in a significant restructuring of ownership across Pakistan Services’ hotel portfolio and may also mark a new phase for the company’s management, investment strategy and future development of its remaining hospitality assets.
اسلام آباد | ری نیوز پاکستان
پاکستان سروسز لمیٹڈ، جو پرل کانٹینینٹل (پی سی) ہوٹل چین کی مالک اور آپریٹر ہے، کے ملکیتی تنازع کو عدالت سے باہر حل کرنے کے لیے ایک مجوزہ تصفیے کے تحت کمپنی کی پانچ ہوٹل جائیدادیں ٹھٹہ سیمنٹ اور فوجی فاؤنڈیشن کے درمیان تقسیم کیے جانے کا امکان ہے۔
نکتہ کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ تصفیے کے تحت پی سی کراچی اور پی سی راولپنڈی ٹھٹہ سیمنٹ کو منتقل کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ پی سی لاہور، پی سی بھوربن اور پی سی مظفرآباد فوجی فاؤنڈیشن کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم یہ انتظام ابھی باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا اور مجوزہ منتقلی بھی مکمل نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق فریقین نے اس مجوزہ تصفیے کے سلسلے میں ایک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان سروسز میں تقریباً 56 فیصد ووٹنگ شیئرز سے متعلق ایک سال سے زائد عرصے سے جاری قانونی اور ملکیتی تنازع کے بعد سامنے آئی ہے۔
پاکستان سروسز کا ملکیتی تنازع جولائی 2025 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز اور محمد نے ایسے شیئرز حاصل کیے جو مجموعی طور پر کمپنی کے تقریباً 56 فیصد ووٹنگ شیئرز کے برابر تھے۔ ہاشوانی گروپ، جس نے 1985 میں پاکستان سروسز حاصل کی تھی، نے ان لین دین کو چیلنج کیا اور بعد ازاں اسے مخالفانہ قبضے کی کوشش قرار دیا۔
اس تنازع کے دوران ٹھٹہ سیمنٹ نے اکتوبر 2025 میں پاکستان سروسز کے تقریباً 28 فیصد شیئرز حاصل کیے اور کمپنی کے بورڈ کے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجوزہ انتخابات معطل کرتے ہوئے متنازع شیئرز کی فروخت یا منتقلی پر پابندی عائد کردی تھی۔
عدالت کی جانب سے عائد پابندیوں کے تحت نئے شیئرز ہولڈرز کو کمپنی کے روزمرہ انتظامی امور میں مداخلت سے بھی روکا گیا تھا۔ اس صورتحال نے پاکستان سروسز کی ملکیت، بورڈ کی تشکیل اور کمپنی کے انتظامی کنٹرول کو طویل عرصے تک قانونی تنازع کا مرکز بنائے رکھا۔
مجوزہ تصفیے میں پی سی پشاور شامل نہیں ہے، کیونکہ یہ ہوٹل پہلے ہی علیحدہ طور پر سرینا ہوٹلز کو فروخت کیا جاچکا ہے۔ یوں مجوزہ تقسیم بنیادی طور پر پاکستان سروسز کے زیرِ ملکیت باقی پانچ نمایاں ہوٹلوں سے متعلق ہے۔
اگر مجوزہ تصفیہ مکمل ہوگیا تو یہ پاکستان سروسز کے ملکیتی تنازع کو ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ تاہم معاہدے کی حتمی شرائط، منتقلی کا طریقہ کار اور اس پر عمل درآمد کا وقت ابھی واضح نہیں ہے، اس لیے حتمی نتیجے کا انحصار متعلقہ فریقین کی آئندہ کارروائیوں پر ہوگا۔
ملکیتی تنازع کے دوران پاکستان سروسز کے شیئرز میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ کمپنی کے شیئرز 52 ہفتوں کی بلند ترین سطح 1,635 روپے سے گر کر 799 روپے تک آئے، جس کے بعد یہ تقریباً 830 روپے کی سطح پر بحال ہوئے۔
مجوزہ تصفیہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان سروسز کے ہوٹل اثاثوں کی ملکیت میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے، جبکہ فریقین کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے سے کمپنی کے مستقبل کے انتظامی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے کے حوالے سے بھی نئی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان سروسز لمیٹڈ، جو پرل کانٹینینٹل (پی سی) ہوٹل چین کی مالک اور آپریٹر ہے، کے ملکیتی تنازع کو عدالت سے باہر حل کرنے کے لیے ایک مجوزہ تصفیے کے تحت کمپنی کی پانچ ہوٹل جائیدادیں ٹھٹہ سیمنٹ اور فوجی فاؤنڈیشن کے درمیان تقسیم کیے جانے کا امکان ہے۔
نکتہ کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ تصفیے کے تحت پی سی کراچی اور پی سی راولپنڈی ٹھٹہ سیمنٹ کو منتقل کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ پی سی لاہور، پی سی بھوربن اور پی سی مظفرآباد فوجی فاؤنڈیشن کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم یہ انتظام ابھی باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا اور مجوزہ منتقلی بھی مکمل نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق فریقین نے اس مجوزہ تصفیے کے سلسلے میں ایک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان سروسز میں تقریباً 56 فیصد ووٹنگ شیئرز سے متعلق ایک سال سے زائد عرصے سے جاری قانونی اور ملکیتی تنازع کے بعد سامنے آئی ہے۔
پاکستان سروسز کا ملکیتی تنازع جولائی 2025 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز اور محمد نے ایسے شیئرز حاصل کیے جو مجموعی طور پر کمپنی کے تقریباً 56 فیصد ووٹنگ شیئرز کے برابر تھے۔ ہاشوانی گروپ، جس نے 1985 میں پاکستان سروسز حاصل کی تھی، نے ان لین دین کو چیلنج کیا اور بعد ازاں اسے مخالفانہ قبضے کی کوشش قرار دیا۔
اس تنازع کے دوران ٹھٹہ سیمنٹ نے اکتوبر 2025 میں پاکستان سروسز کے تقریباً 28 فیصد شیئرز حاصل کیے اور کمپنی کے بورڈ کے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجوزہ انتخابات معطل کرتے ہوئے متنازع شیئرز کی فروخت یا منتقلی پر پابندی عائد کردی تھی۔
عدالت کی جانب سے عائد پابندیوں کے تحت نئے شیئرز ہولڈرز کو کمپنی کے روزمرہ انتظامی امور میں مداخلت سے بھی روکا گیا تھا۔ اس صورتحال نے پاکستان سروسز کی ملکیت، بورڈ کی تشکیل اور کمپنی کے انتظامی کنٹرول کو طویل عرصے تک قانونی تنازع کا مرکز بنائے رکھا۔
مجوزہ تصفیے میں پی سی پشاور شامل نہیں ہے، کیونکہ یہ ہوٹل پہلے ہی علیحدہ طور پر سرینا ہوٹلز کو فروخت کیا جاچکا ہے۔ یوں مجوزہ تقسیم بنیادی طور پر پاکستان سروسز کے زیرِ ملکیت باقی پانچ نمایاں ہوٹلوں سے متعلق ہے۔
اگر مجوزہ تصفیہ مکمل ہوگیا تو یہ پاکستان سروسز کے ملکیتی تنازع کو ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ تاہم معاہدے کی حتمی شرائط، منتقلی کا طریقہ کار اور اس پر عمل درآمد کا وقت ابھی واضح نہیں ہے، اس لیے حتمی نتیجے کا انحصار متعلقہ فریقین کی آئندہ کارروائیوں پر ہوگا۔
ملکیتی تنازع کے دوران پاکستان سروسز کے شیئرز میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ کمپنی کے شیئرز 52 ہفتوں کی بلند ترین سطح 1,635 روپے سے گر کر 799 روپے تک آئے، جس کے بعد یہ تقریباً 830 روپے کی سطح پر بحال ہوئے۔
مجوزہ تصفیہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان سروسز کے ہوٹل اثاثوں کی ملکیت میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے، جبکہ فریقین کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے سے کمپنی کے مستقبل کے انتظامی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے کے حوالے سے بھی نئی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔