Published: November 2, 2026 - 4:01 PM
Great Britain House Prices Forecast to Rise 1.5% in 2027
برطانیہ میں 2027 کے دوران گھروں کی قیمتوں میں 1.5 فیصد اضافے کی پیش گوئی
▫️ Connells Group expects prices to grow faster in 2028 as lower mortgage rates support demand
House prices across Great Britain are forecast to rise by 1.
House prices across Great Britain are forecast to rise by 1.5% in 2027, following estimated growth of 1% in 2026, according to a new outlook from property agency Connells Group. The forecast covers England, Scotland and Wales; the article does not provide a separate forecast for Northern Ireland. London is assessed separately.
Connells expects price growth to reach 2.5% in 2028 as easing inflation could allow borrowing costs to fall and encourage more buyers back into the market. Growth is then forecast to slow to 2% in 2029, when uncertainty ahead of the next general election may weigh on demand, particularly in London and southern England.
The group estimates that housing transactions in 2026 will fall around 100,000 short of the number expected at the start of the year. It forecasts activity to improve to about 1.1 million completed home moves in 2027 and just under 1.2 million in 2028, before easing to around 1.1 million in 2029. Lower mortgage rates are expected to help some households who postponed moving return to the market. However, Connells’ research director, Aneisha Beveridge, cautioned that if mortgage rates remain around 5%, house prices could fall slightly in 2027 instead of rising.
Households refinancing fixed-rate mortgages taken out before rates began increasing may also continue to face higher repayments, although that pressure is expected to begin easing by mid-2027. London house prices are forecast to fall by 1% in 2026 before rising 2% in 2027.
Outer London could benefit from improved mortgage affordability, but higher taxes and weaker investor and international demand may limit the capital’s recovery. Scotland and the Northeast of England are expected to remain among the stronger-performing areas, partly because their comparatively lower prices leave more room for buyers to respond to reduced borrowing costs.
Connells says wage growth has helped household affordability, while inflation has reduced house prices in real terms. Government measures have supported first-time buyers and the lower end of the market, but stamp duty and other tax costs continue to weigh on mainstream and higher-value properties.
برطانیہ میں گھروں کی قیمتیں 2027 میں 1.5 فیصد بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ 2026 کے لیے ایک فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ پیش گوئی پراپرٹی ایجنسی کونلز گروپ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کی ہے۔ رپورٹ کا جائزہ انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز پر محیط ہے؛ شمالی آئرلینڈ کے لیے الگ پیش گوئی شامل نہیں۔ لندن کا جائزہ الگ پیش کیا گیا ہے۔
کونلز کے مطابق مہنگائی میں کمی سے قرض لینے کی لاگت کم ہو سکتی ہے، جس سے خریداروں کی مارکیٹ میں واپسی اور 2028 میں قیمتوں کی شرحِ نمو 2.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 2029 میں یہ شرح کم ہو کر 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اگلے عام انتخابات سے پہلے غیر یقینی صورتِ حال طلب کو متاثر کر سکتی ہے، بالخصوص لندن اور جنوبی انگلینڈ میں۔
گروپ کا تخمینہ ہے کہ 2026 میں گھروں کی خریدوفروخت کے سودے سال کے آغاز میں لگائے گئے اندازوں سے تقریباً ایک لاکھ کم رہیں گے۔ کونلز کو توقع ہے کہ 2027 میں مکمل ہونے والی گھریلو منتقلیوں کی تعداد تقریباً 11 لاکھ اور 2028 میں 12 لاکھ سے کچھ کم ہو جائے گی، تاہم 2029 میں یہ تعداد دوبارہ کم ہو کر تقریباً 11 لاکھ رہ سکتی ہے۔ رہائشی قرضوں پر شرحِ سود میں کمی سے اُن گھرانوں کو دوبارہ منتقلی میں مدد ملنے کی توقع ہے جنہوں نے اپنے منصوبے مؤخر کر دیے تھے۔ تاہم کونلز کی ریسرچ ڈائریکٹر انیشا بیورج نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرحِ سود تقریباً 5 فیصد پر برقرار رہی تو 2027 میں قیمتیں بڑھنے کے بجائے معمولی کم بھی ہو سکتی ہیں۔
شرحِ سود میں اضافے سے پہلے مقررہ شرح پر پانچ سالہ قرض لینے والے گھرانوں کو قرض کی مدت پوری ہونے پر زیادہ اقساط کا سامنا ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ دباؤ 2027 کے وسط تک کم ہونا شروع ہونے کی توقع ہے۔
لندن میں گھروں کی قیمتیں 2026 میں ایک فیصد کم ہونے کے بعد 2027 میں 2 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بیرونی لندن میں رہائشی قرضوں کی بہتر استطاعت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن زیادہ ٹیکس اور سرمایہ کاروں اور بیرونِ ملک خریداروں کی کمزور طلب سے دارالحکومت کی بحالی محدود رہنے کا امکان ہے۔
سکاٹ لینڈ اور شمال مشرقی انگلینڈ ان علاقوں میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں قیمتوں میں اضافہ نسبتاً زیادہ رہے۔ ان علاقوں میں قیمتیں نسبتاً کم ہونے کے باعث قرض کی لاگت میں کمی سے خریداروں کو زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ کونلز کے مطابق اجرتوں میں اضافے نے گھرانوں کی استطاعت کو سہارا دیا ہے، جبکہ مہنگائی کے باعث حقیقی معنوں میں گھروں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ حکومتی اقدامات سے پہلی بار گھر خریدنے والوں اور کم قیمت گھروں کی مارکیٹ کو مدد ملی ہے، تاہم اسٹیمپ ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کے اخراجات عام اور مہنگی جائیدادوں کی خریدوفروخت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
کونلز کے مطابق مہنگائی میں کمی سے قرض لینے کی لاگت کم ہو سکتی ہے، جس سے خریداروں کی مارکیٹ میں واپسی اور 2028 میں قیمتوں کی شرحِ نمو 2.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 2029 میں یہ شرح کم ہو کر 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اگلے عام انتخابات سے پہلے غیر یقینی صورتِ حال طلب کو متاثر کر سکتی ہے، بالخصوص لندن اور جنوبی انگلینڈ میں۔
گروپ کا تخمینہ ہے کہ 2026 میں گھروں کی خریدوفروخت کے سودے سال کے آغاز میں لگائے گئے اندازوں سے تقریباً ایک لاکھ کم رہیں گے۔ کونلز کو توقع ہے کہ 2027 میں مکمل ہونے والی گھریلو منتقلیوں کی تعداد تقریباً 11 لاکھ اور 2028 میں 12 لاکھ سے کچھ کم ہو جائے گی، تاہم 2029 میں یہ تعداد دوبارہ کم ہو کر تقریباً 11 لاکھ رہ سکتی ہے۔ رہائشی قرضوں پر شرحِ سود میں کمی سے اُن گھرانوں کو دوبارہ منتقلی میں مدد ملنے کی توقع ہے جنہوں نے اپنے منصوبے مؤخر کر دیے تھے۔ تاہم کونلز کی ریسرچ ڈائریکٹر انیشا بیورج نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرحِ سود تقریباً 5 فیصد پر برقرار رہی تو 2027 میں قیمتیں بڑھنے کے بجائے معمولی کم بھی ہو سکتی ہیں۔
شرحِ سود میں اضافے سے پہلے مقررہ شرح پر پانچ سالہ قرض لینے والے گھرانوں کو قرض کی مدت پوری ہونے پر زیادہ اقساط کا سامنا ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ دباؤ 2027 کے وسط تک کم ہونا شروع ہونے کی توقع ہے۔
لندن میں گھروں کی قیمتیں 2026 میں ایک فیصد کم ہونے کے بعد 2027 میں 2 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بیرونی لندن میں رہائشی قرضوں کی بہتر استطاعت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن زیادہ ٹیکس اور سرمایہ کاروں اور بیرونِ ملک خریداروں کی کمزور طلب سے دارالحکومت کی بحالی محدود رہنے کا امکان ہے۔
سکاٹ لینڈ اور شمال مشرقی انگلینڈ ان علاقوں میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں قیمتوں میں اضافہ نسبتاً زیادہ رہے۔ ان علاقوں میں قیمتیں نسبتاً کم ہونے کے باعث قرض کی لاگت میں کمی سے خریداروں کو زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ کونلز کے مطابق اجرتوں میں اضافے نے گھرانوں کی استطاعت کو سہارا دیا ہے، جبکہ مہنگائی کے باعث حقیقی معنوں میں گھروں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ حکومتی اقدامات سے پہلی بار گھر خریدنے والوں اور کم قیمت گھروں کی مارکیٹ کو مدد ملی ہے، تاہم اسٹیمپ ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کے اخراجات عام اور مہنگی جائیدادوں کی خریدوفروخت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔