Published: October 16, 2026 - 6:01 PM
Pakistan, Islamic Development Bank Advance $5.6 Billion Cooperation for Infrastructure Development
پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 5.6 ارب ڈالر کے تعاون میں پیش رفت
▫️ IDB's $475 million financing for Sukkur Hyderabad M 6 Motorway welcomed, Pakistan seeks additional support for ML 1 railway project and faster approval and disbursement of development funds
Pakistan and the Islamic Development Bank (IsDB) have made progress towards strengthening development cooperation under a proposed $5.
Islamabad | ReNews Pakistan
Pakistan and the Islamic Development Bank (IsDB) have made progress towards strengthening development cooperation under a proposed $5.6 billion financing framework covering infrastructure development, transport connectivity, trade facilitation, private sector investment and public health initiatives.
The government has emphasised the need to translate the indicative financing commitments into a pipeline of well prepared development projects, with clearly defined timelines for project approvals, fund disbursements and implementation.
Federal Minister for Economic Affairs Ahad Khan Cheema met Islamic Development Bank Group Chairman Dr Muhammad Sulaiman Al Jasser in Bangkok, Thailand, on October 15, 2026, on the sidelines of the World Bank Group and International Monetary Fund Annual Meetings.
The discussions focused on accelerating cooperation under Pakistan's Member Country Partnership Strategy (MCPS) 2026 to 2030, which envisages approximately $5.6 billion in indicative financing from the IsDB Group.
Cheema congratulated Dr Al Jasser on his re election for a second five year term and reaffirmed Pakistan's confidence in his leadership.
According to an official statement, the minister welcomed the financing framework but stressed that the proposed financial envelope must be translated into specific, investment-ready projects capable of delivering measurable economic and social benefits.
The $5.6 billion represents indicative financing envisaged under the partnership strategy rather than a single fully approved or immediately available loan package. Individual projects will require preparation, appraisal, financing approvals and compliance with the relevant conditions before funds can be disbursed.
The Sukkur Hyderabad M 6 Motorway featured prominently in the discussions, with Cheema appreciating the IsDB's $475 million financing for the project.
The M 6 Motorway is a major component of Pakistan's national motorway network, intended to improve road connectivity between Sindh's northern and southern regions and strengthen freight movement between Karachi's ports and the country's major industrial and commercial centres.
The project is also expected to support more efficient transport operations and improve the movement of goods along Pakistan's principal north-south trade corridor.
From an infrastructure and real estate development perspective, improved motorway connectivity could create opportunities for logistics centres, warehousing facilities, industrial estates and commercial developments near major transport interchanges.
اسلام آباد | ری نیوز پاکستان
پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کے درمیان بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی، اہم شاہراہوں اور ریلوے منصوبوں کی بہتری، تجارت کے فروغ، نجی سرمایہ کاری اور صحت کے شعبے میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر کی مجوزہ مالی معاونت کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک پر زور دیا ہے کہ مجوزہ مالی وسائل کو ایسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے جن کی تیاری مکمل ہو اور جن کی منظوری، فنڈز کے اجرا اور تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کی جاسکے۔
وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ نے 15 اکتوبر 2026 کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سلیمان الجاسر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے لیے ممبر کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026-2030 کے تحت ترقیاتی شراکت داری، مالی معاونت، تجارتی سرگرمیوں اور اہم قومی منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین کو دوسری پانچ سالہ مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور پاکستان کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے بینک کے تعاون کو اہم قرار دیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک کی پانچ سالہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کے لیے تقریباً 5.6 ارب ڈالر کی اشاریاتی مالی معاونت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ رقم تمام منصوبوں کے لیے یک مشت منظور شدہ قرض یا فوری طور پر دستیاب فنڈز نہیں بلکہ مجوزہ مالی تعاون کا مجموعی حجم ہے، جسے متعلقہ منصوبوں کی تیاری، منظوری اور مالی شرائط کی تکمیل کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی۔
احد چیمہ نے زور دیا کہ مجوزہ مالی تعاون کو ٹھوس منصوبوں کی فہرست میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تجارتی رابطوں، توانائی، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور دیگر ترجیحی منصوبوں کے لیے مالی وسائل مؤثر اور بروقت استعمال کیے جاسکیں۔
ملاقات میں سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 کے منصوبے کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ وفاقی وزیر نے اس منصوبے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے 47 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت کو سراہا۔
ایم 6 موٹروے کراچی سے پشاور تک قومی موٹروے نیٹ ورک کے اہم رابطوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد سندھ کے اندر شمالی اور جنوبی علاقوں کے درمیان شاہراہوں کے رابطے بہتر بنانا، مال برداری میں سہولت فراہم کرنا اور تجارتی نقل و حمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
سکھر حیدرآباد موٹروے کی تکمیل سے کراچی کی بندرگاہوں، صنعتی مراکز اور ملک کے شمالی علاقوں کے درمیان زمینی رابطوں میں بہتری کی توقع ہے۔ منصوبے کے ساتھ منسلک علاقوں میں مستقبل کی صنعتی، تجارتی اور لاجسٹکس سرگرمیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم ان فوائد کا انحصار موٹروے کی بروقت تعمیر اور متعلقہ رابطہ سڑکوں کی دستیابی پر ہوگا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان ریلویز کے ایم ایل ون اپ گریڈیشن منصوبے کی تزویراتی اہمیت بھی اجاگر کی اور اس کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کی مزید مالی معاونت طلب کی۔
ایم ایل ون منصوبے کا مقصد کراچی سے پشاور تک پاکستان کے مرکزی ریلوے نظام کی اپ گریڈیشن، مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت میں بہتری، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور بڑے صنعتی و تجارتی مراکز کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے پر پیش رفت کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر شریک مالیاتی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ منصوبے کی تیاری، متعلقہ منظوریوں اور مستقبل کے عملی مراحل کو تیز کیا جاسکے۔
ایم ایل ون اور ایم 6 جیسے بڑے منصوبے پاکستان کے تعمیراتی اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ بہتر ٹرانسپورٹ روابط سے صنعتی اراضی، گوداموں، لاجسٹکس مراکز، تجارتی عمارتوں اور مال برداری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم ان ملاقاتوں میں کسی مخصوص ہاؤسنگ سکیم، صنعتی اراضی کی الاٹمنٹ یا نئے تجارتی تعمیراتی منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزیر اقتصادی امور نے اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے مختلف ذیلی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان اداروں میں انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن، اسلامک کارپوریشن فار دی ڈیولپمنٹ آف دی پرائیویٹ سیکٹر، اسلامک کارپوریشن فار دی انشورنس آف انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ اور اسلامی ترقیاتی بینک انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔