تاریخ اشاعت: May 4, 2026 - 4:10 PM
LDA Begins Revision of Lahore Master Plan 2050, Updated Plan to Include RUDA, New Urban Boundaries, Zoning, and Latest Population Data
ایل ڈی اے کی لاہور ماسٹر پلان 2050 پر نظرِ ثانی شروع، ترمیم شدہ منصوبے میں روڈا سمیت نئی شہری حدود، زوننگ اور نئے آبادیاتی اعداد و شمار شامل کیے جائیں گے
▫️حتمی مسودہ مئی کے اختتام تک متوقع، ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی کی منظوری کے بعد جولائی 2026 سے نفاذ کا امکان
لاہور | ری نیوز پاکستان
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2050 پر نظرِ ثانی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ حالیہ شہری توسیع اور نئے آبادیاتی اعداد و شمار کو منصوبے میں شامل کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق حتمی مسودہ م...
Lahore | ReNews Pakistan
The Lahore Development Authority (LDA) has initiated a comprehensive revision of the Lahore Division Master Plan 2050 to incorporate recent urban expansion and updated population figures, with officials indicating that the final draft is expected by the end of May.
According to authorities, the revised master plan is likely to come into effect from the beginning of the next fiscal year 2026–27, starting July 1, subject to formal approval by the LDA’s governing body.
LDA Chief Metropolitan Planner Muhammad Faisal Qureshi stated that the consultants who originally prepared the plan in 2022 are currently revising it in line with directives issued by the court. The updated version will reflect developments that have taken place over the past five to six years.
He further explained that the revised draft is being developed based on the 2023 population census, replacing earlier projections that relied on 2017 data. The plan is expected to include newly developed built-up areas across Lahore and its adjoining districts, particularly within residential and mixed-use zones.
The updated master plan will also incorporate major ongoing developments under initiatives such as the Ravi Urban Development Authority (RUDA), including areas within the Ravi Riverfront Urban Development Project.
Officials added that once the draft is completed, it will undergo review by the LDA, followed by a public hearing on the Environmental Impact Assessment (EIA) conducted by the environment department. The plan is then expected to be presented for final approval in a governing body meeting scheduled for late June.
At present, the LDA continues to operate under the amended Lahore Division Master Plan 2016 for approvals related to housing schemes and land subdivisions.
The Master Plan 2050 was initially finalized in 2022 and approved by the provincial government at the time. However, its implementation was suspended by the Lahore High Court in January 2023 following legal challenges. Petitioners had raised concerns regarding alleged irregularities in the approval process and potential environmental implications.
Subsequently, the court directed the LDA to review the plan. Although the authority had planned to seek input from relevant institutions, including environmental and planning bodies, the review process did not progress at that stage.
Earlier this year, the LDA’s governing body approved the continuation of the revision process, including negotiations with consultants over an estimated cost of PKR 320 million.
The Master Plan 2050 outlines Lahore’s long-term urban development strategy, including proposals for a new city centre in Gulberg and the expansion of urban boundaries to accommodate future population growth. It also provides planning frameworks for major urban settlements in Sheikhupura, Nankana Sahib, and Kasur, aligning with policies of key urban development authorities across the region.
لاہور | ری نیوز پاکستان
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2050 پر نظرِ ثانی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ حالیہ شہری توسیع اور نئے آبادیاتی اعداد و شمار کو منصوبے میں شامل کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق حتمی مسودہ مئی کے اختتام تک تیار ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق نظرِ ثانی شدہ ماسٹر پلان کی باقاعدہ منظوری کے بعد اسے آئندہ مالی سال 27- 2026 کے آغاز، یعنی یکم جولائی سے نافذ کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس کے لیے ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی کی منظوری درکار ہوگی۔
چیف میٹروپولیٹن پلانر محمد فیصل قریشی نے بتایا کہ 2022 میں منصوبہ تیار کرنے والے کنسلٹنٹس عدالت کی ہدایات کے مطابق اس پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے مسودے میں گزشتہ پانچ سے چھ برسوں کے دوران ہونے والی ڈویلپمنٹ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق تازہ مسودہ 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر تیار کیا جا رہا ہے، جس میں 2017 کے پرانے تخمینوں کو تبدیل کیا جائے گا۔ لاہور اور اس سے ملحقہ اضلاع میں نئی تعمیر شدہ شہری آبادیاں، خصوصاً رہائشی اور مخلوط استعمال کے علاقوں کو بھی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔
ترمیم شدہ ماسٹر پلان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے تحت جاری منصوبوں کو بھی شامل کیا جائے گا، جن میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے علاقے بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسودہ تیار ہونے کے بعد ایل ڈی اے اس کا جائزہ لے گا، جس کے بعد ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) کے حوالے سے محکمہ ماحولیات کے تحت عوامی سماعت منعقد کی جائے گی۔ اس کے بعد منصوبے کو جون کے آخر میں ہونے والے گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
فی الوقت ایل ڈی اے ہاؤسنگ سکیموں اور اراضی کی تقسیم سے متعلق منظوریوں کے لیے لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2016 کے ترمیم شدہ ورژن کے تحت کام کر رہا ہے۔
ماسٹر پلان 2050 کو ابتدائی طور پر 2022 میں حتمی شکل دے کر اُس وقت کی صوبائی حکومت سے منظور کرایا گیا تھا، تاہم جنوری 2023 میں لاہور ہائی کورٹ نے قانونی چیلنجز کے باعث اس کے نفاذ کو معطل کر دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے منظوری کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ماحولیاتی اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں عدالت نے ایل ڈی اے کو منصوبے پر نظرِ ثانی کی ہدایت دی۔ اگرچہ اتھارٹی نے متعلقہ اداروں سے مشاورت کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم اس وقت یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔
رواں سال کے اوائل میں ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی نے نظرِ ثانی کے عمل کو جاری رکھنے کی منظوری دی، جس میں تقریباً 32 کروڑ روپے کی لاگت سے کنسلٹنٹس کے ساتھ مذاکرات بھی شامل ہیں۔
ماسٹر پلان 2050 لاہور کی طویل المدتی شہری ترقی کی حکمت عملی پیش کرتا ہے، جس میں گلبرگ میں نئے سٹی سینٹر کے قیام، شہری حدود میں توسیع اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے منصوبہ بندی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور قصور میں بڑے شہری مراکز کے لیے بھی ترقیاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو خطے کی دیگر شہری ترقیاتی اتھارٹیز کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے۔